دلچسپ و عجیب

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اِنسان کتنے دن تک بغیر سوئے زندہ رہ سکتا ہے؟

اِنسان
Written by Maher Fahad

نیوز ڈیسک !ایک اچھے دن کے آغاز کے لئے کم از کم 8 گھنٹے کی نیند ضروری سمجھی جاتی ہے لیکن آپ نے کبھی سوچا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کتنی دیر جاگا جا سکتا ہے؟ 60 کی دہائی میں دو امریکی طالب عملوں نے 11 دن اور پچیس منٹ تک جاگنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔رینڈی گارڈنر اور بروس میک ایلسٹر نے ایک سائنسی تحقیق کے لئے ایسا کیا تھا۔

اس حوالے سے سائنسدان اس سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ کوئی بھی انسان بغیر سوئے کتنی دیر رہ سکتا ہے۔ٹھیک اسی دور میں کئی لوگ زیادہ سے زیادہ دیر تک جاگتے رہنے کا عالمی ریکارڈ بنانے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ اس وقت رینڈی کی عمر صرف 17 برس تھی۔وہ ہونولولو کے ایک ڈی جے کا ریکارڈ توڑ انہیں شکست دینا چاہتے تھے۔ اس ڈی جے نے 11 دن بغیر سوئے گزارے تھے۔ آخر کار گیارہ دن اور پچیس منٹ تک جاگ کر رینڈی اس ڈی جے کا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب قرار پائے گئے تھے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کار یہ ریکارڈ کیسے بنا اور جاگنے کی صورت میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ؟ تجربے کے دوران موجود بروس میک ایلسٹر نے بی بی سی کے نامہ نگار لوسی برنس کو بتایا تھا کہ شروعات میں ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ نیند کی کمی سے غیر معمولی صلاحیتوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیں احساس ہوا کہ ایسا کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ پھر ہم نے یہ دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ نیند کی کمی سے علم سے متعلق صلاحیتیں کس طرح متاثر ہوتی ہیں۔ ہم میں سے ایک کو اپنے ساتھی کی نگرانی کے لئے جاگنا تھا۔ لیکن تیسری رات کے بعد ایلسٹر کو احساس ہوگیا کہ وہ ایسا نہیں کر پائیں گے۔ اس لئے اُنھوں نے اپنے ایک ساتھی مارسینو سے مدد طلب کی۔ضروری تھی نگرانی اس لئے گروپ میں ولیم ڈیمینٹ بھی شامل ہوگئے۔

اَب وہ کیلیفورنیا میں سٹینفرڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ سنہ 1964 میں وہ دی سائنس آف سلیپ یعنی نیند کی حکمت پر کام کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔انہوں نے اس بارے میں سین ڈیاگو میں اخبار میں پڑھا تھا۔ ڈیمینٹ بتاتے ہیں کہ تحقیق میں شامل نوجوانوں کو اس بات سے راحت ملی کیوں کہ انہیں ڈر بھی لگ رہا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ‘اس سوال کا جواب اب تک نہیں مل سکا ہے کہ زیادہ دیر تک نہ سونے سے کیا نسان کی موت ہو سکتی ہے؟ اس ڈر کی وجہ یہ تھی کہ ایسا ہی ایک تجربہ بلیوں کے ساتھ کیا گیا تھا اور پندرہ دن جاگنے کے بعد ان کی موت ہو گئی تھی۔ سب سے مشکل وقت انہوں نے بتایا کہ رات کا وقت سب سے مشکل ہوتا تھا۔ کیوں اس وقت ان کے پاس کرنے کے لئے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ دن میں وہ باسکٹ بال کھیل کر چست رہتے تھے۔اس دوران انھیں طرح طرح کے کھانے چکھائے جاتے تھے، بو سنگھائی جاتی تھی اور آوازیں سنائی جاتی تھیں۔ بروس بتاتے ہیں کہ ہم نے تبدیلی محسوس کرنی شروع کر دی تھی۔ ان کی علم اور آگہی سے متعلق صلاحیتیں متاثر ہو رہی تھیں۔ لیکن باسکٹ بال کھیلنے کی صلاحیت بہتر ہوتی گئی۔ گیارہ دن اور پچیس منٹ کا ریکارڈ بنانے کے بعد رینڈی پورے 14 گھنٹے سوتے رہے۔جیسے جیسے دن گزرتے گئے ان کے سونے کا نظام بھی بحال ہوتا گیا۔ اِبتداء میں انہیں کوئی پریشانی نہیں پیش آئی لیکن بعد میں اُنہیں نیند نہ آنے کی شکایت ہوئی۔

About the author

Maher Fahad

Leave a Comment